I love you all my friends
Tuesday, 26 May 2020
خاوند کی فرمائش پر چودائی۔
ئش پر چدائی
آج کا دن میری زندگی میں بہت ہی اہمیت کا حامل تھا.
کیونکہ آج رات کو مجھکو اور میرے میاں عمران کو انکے باس نے اپنے بنگلے پر پارٹی میں بلایا تھا.
عمران نے مجھکو خاص طور پر اس پارٹی کیلیے تیار ہونے کا کہا تھا. انھوں نے خود ہی میرے کپڑوں کی وارڈروب دیکھی.
اور میرے لیے ساڑھی نکالی. جسکا بلاؤز بڑے گلے اور بناء آستینوں کا تھا.
میاں کی ہدایت تھی. کہ دیکھو یہ پارٹی میرے لیے بہت اہمیت کی حامل یے. لہازا اپنا رویہ میرے باس کے ساتھ بہت اچھا اور دوستانہ رکھنا.
اور میں نے انکو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا.
رات کے نو بج گئے تھے. اور میں ساڑھی باندھے. مناسب میک اپ میں تیار تھی. دونوں بچوں کو انکی نانی کے ہاں روانہ کیا جاچکا تھا.
میں میاں کے سامنے تیار ہوکر کھڑی ہوئ. تاکہ وہ میری تیاری دیکھکر مطمئن ہوسکیں. اور انھوں نے میری تیاری دیکھکر فورا ہی کہا...... پرفیکٹ
اور میں بھی مسکرادی.
اب ہم ......وسیم صاحب.....جوکہ میرے میاں کے باس تھے.
انکے گھر روانہ ہورہے تھے. اور تقریبا آدھے گھنٹے میں ہی ہم انکے بنگلے پر پہنچ چکے تھے.
وسیم صاحب نے ہم دونوں کا پرتپاک استقبال کیا. میں نے انکا نام تو بہت سنا تھا. لیکن دیکھا آج تھا انکو.
بہت نفیس اور پرکشش شخصیت تھی انکی. پینتیس سال کی عمر تھی. لیکن وہ مجھکو پچیس سال سے زیادہ کے نہیں لگ رہے تھے.
آفس کے اور بھی لوگ پارٹی میں مدعو تھے. انکی بیگمات بھی انکے ہمراہ تھیں.
سر .....ان سے ملیں ...صائمہ میری بیگم...عمران نے وسیم صاحب سے میرا تعارف کروایا.
اوہ.....بہت خوب....وسیم مجھے دیکھکر مسکرائے. اور اپنا ہاتھ مجھ سے ہاتھ ملانے کیلیے آگے بڑھایا.
اور میں نے بھی ان سے ہاتھ ملانے میں دیر نہیں لگائ.
ارے بھئ عمران....کیاں چھپاکر رکھا تھا. تمنے اتنی خوبصورت خاتون کو.......وسیم نے شوخی سے مجھکو دیکھکر کہا.
سر آج لے آیا نہ....تو چھپانے والی تو بات ہی ختم پھر.
عمران نے بھی فورا جواب دیا. اور ہم تینوں ہی مسکرادئیے.
وسیم نے ہمارے لیے سوفٹ ڈرنک منگوایا. مجھکو بزات خود سوفٹ ڈرنک پیش کیا جو میں نے مسکراتے ہوئے شکریہ کیساتھ لے لیا.
ابھی میں بیٹھی ہی تھی. کہ عمران کے آفس کولیگز عمران کے پاس آگئے. اور انکو اپنے ساتھ لیجانے پر اصرار کرنے لگے.
عمران آپ جائیں. فکر نہ کریں. صائمہ کے پاس میں ہوں نہ.
انھوں نے عمران کو مطمئن کیا.
ہاں ہاں....آپ جائیں.....کوئ حرج نہیں. میں وسیم صاحب کے ساتھ ہی ہوں........میں نے بھی عمران کو مطمئن کیا.
اور یوں وہ اطمینان سے اپنے کولیگز کیساتھ چلیگئے.
اب میں تھی. اور وسیم تھے. آج زندگی میں پہلی بار ایسا یورہا تھا. کہ میں کسی اور مرد سے اسقدر بےتکلفی سے باتیں کررہی تھی. اور مجھے ان سے اتنا فری ہوکر مسکرا مسکرا کر بات کرنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا. میں انکی شخصیت اور سراپے سے بہت متاثر ہورہی تھی.
اچانک ہی وسیم اٹھ کھڑے ہوئے. انھوں نے میرا ہاتھ تھاما. اور ڈانس فلور پر لے آئے. جہاں مرد و خواتین آپس میں ڈانس کررہے تھے.
ہم نسبتا ایک اندہیرے گوشے کیطرف آگئے. وسیم نے اپنا سیدھا ہاتھ میری کمر میں ڈالا. اور اپنے الٹے ہاتھ سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیلیا. اور یوں ہم دونوں موسیقی کی لئے پر ہلکے ہلکے جھومنے لگے. انکے ہاتھ بہت گرم لگ رہے تھے خاص کر انکا سیدھا ہاتھ. جو کہ میری ننگی کمر میں تھا. ایسا لگرہا تھا. کہ جیسے میری کمر کا نرم و گرم مساج ہورہا ہو......!
ہم دونوں آپس میں باتیں کررہے تھے. ایکدوسرے کو جان رہے تھے. ایکدوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے. اور سب سے حیران کن بات یہ تھی میرے لیے کہ یہ سب کچھ ہی... مجھکو بلکل بھی برا نہیں لگ رہا تھا. ہم دونوں کے درمیان فاصلہ بلکل برائے نام تھا. انکے کوٹ میں سے پرفیوم کی خوشبو جوکہ موسم کی منابت سے عین مطابق تھی. مجھے بہت بھلی لگ رہی تھی.
اچانک ہی اعلان کیا گیا. کہ تمام خواتین و حضرات ڈائیننگ ٹیبل پر تشریف لے آئیں.
اور وسیم میرا ہاتھ تھامے ہوئے مجھے کھانے کی میز پر لے آئے..........اور ہم دونوں نے اکھٹے ہی کھانا کھایا.
ڈنر کے بعد شراب سرو کرنی شروع کی گئ.
صائمہ ......لیجیے نہ آپ.....انھوں نے مجھے شراب کی پیشکش کی.
اوہ نو.....وسیم میں نے کبھی پی نہیں...میں دھیرے سے بولی.
جیسے آپکی مرضی....لیکن پہلی بار میرے کہنے سے ڈرنک کرلیتیں تو کوئ حرج نہیں تھا. وہ دوستانہ انداز میں بولے.
بات یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مجھکو نشہ چڑھ جائے. اسلیے انکار کررہی تھی....میں نے انکو اپنی بات کلییر کی.
تھوڑی سی پی کر کچھ نہیں ہوگا....وہ مسکرا کر بولے.
اچھا چلیں پلائیں.....میں نے بھی گرین سگنل دیدیا...!
اور انھوں نے جام میرے ہاتھ میں تھمادیا. میں نے اسکو ایک نظر دیکھا. اور لبوں سے لگالیا. اور دھیرے دھیرے پینے لگی
شراب بھی بہت اعلی کوالٹی کی تھی. ہر ہر گھونٹ مجھکو سرور بخ
15سال کی عمر میں میری پہلی چودائی
15سال کی عمر میں میری پہلی چودائی
سلام ٹو آل آف یو
یہ میری پہلی سٹوری ہے ۔ امید ہے آپ سب کو پسند آۓ گی۔
میرا نام عالمہ مصباح ہے اور میں لاہور میں رہتی ہوں۔ میری فیملی میں میری امی ابو ایک چھوٹا بھائ اور ایک سس ہے۔
یہ میری آپ بیتی ہے جو آپ سب کو سنانے جا رہی ہوں۔
یہ 2008 کی بات ہے ۔ تب میں نے آٹھویں کا امتحان پاس کیا تھا۔ تو میرے بابا نے مجھے حفظ کے لۓ مدرسے میں داخل کروا دیا۔
میں اپنی پہلی کلاس لی اور ایمان میری دوست بن گئ۔
ہمارے حافظ صاحب مجھے کچھ اچھے انسان نہیں لگے تھے مجھے تب۔ پہلے ہی دن حافظ نے مجھ سے کہا کہ تم میرے پاس بیٹھا کرو گی۔ میں خاموش ہو گی۔میں نے اپنی دوست ایمان سے کہا مجھے ڈر لگتا ہے حافظ سے تو وہ کہتی ۔کچھ نہیں ہوتا حافظ صاحب بہت اچھے انسان ہیں۔
دوسرے دن حافظ نے سبق سنا اور مجھے یاد نہیں تھا تو مجھے کہا تم کھڑی ہو جاؤ میں کھڑی ہو گئ۔ تو مجھے کہنے لگے کہ دوسری طرف جا کر سجدہ والی حالت میں ہو جاؤ اور پورے 30 منٹ اٹھنا نہیں اور اپنی پیٹھ میری طرف رکھنی ہے۔
میں ویسے ہو گئ۔دوسری لڑکیاں چھوٹی تھی اس کلاس میں۔بس میں اور میری دوست ایمان بڑی تھی۔تب میری عمر 15 سال تھی اور ایمان کی 17 سال تھی۔ مجھے دیکھ کر ایمان تھوڑی تھوڑی ہنس رہی تھی اور مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ یہ تو مجھے بعد میں پتا چلا کہ ایمان کو بھی حافظ چودتے ہیں۔
خیر میں سجدے کی حالت میں رہی اور حافظ صاحب بار بار میری پیٹھ پر کبھی مارتے ہولے سے تو کبھی ہاتھ پھیرتے ۔ مجھے بہت عجیب لگ رہا تھا تب یہ سب کچھ۔


